نئی دہلی، 11؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )پڑوسی ملک سے آئے پناہ گزینوں کو راحت فراہم کرنے کے وعدے کو آگے بڑھانے اور شہریت فراہم کرنے سے متعلق شہریت ترمیمی بل 2016پر پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی غور کریں گے۔لوک سبھا میں شہریت ایکٹ میں مزید ترمیم کرنے والے اس بل کو پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی یا مشترکہ کمیٹی کے پاس بھیجنے کے بیجو جنتا دل، کانگریس، بایاں محاذ کے اصرار پر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اگر ایوان کا خیال اس کو مشترکہ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا ہے، تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔وہ اس کے لیے تیار ہیں۔راج ناتھ نے کہاکہ اگر ایوان رضامند ہو تو وہ آج ہی اس کے لیے تحریک پیش کریں گے۔اراکین نے اس پر رضامندی کااظہار کیا ۔اس سے پہلے بی جے ڈی کے بھرترہری مہتاب نے کہا کہ آج کے ایجنڈا میں شہریت سے متعلق بل درج ہے۔جب شہریت کی بات آتی ہے تو اس سے ہر شہری کی ہمدردی جڑ جاتی ہے۔ہندوستان نے ہمیشہ سے ہی ہر طبقے اور جگہ سے آنے والے لوگوں کو قبول کیا ہے، اس بل میں اسی سمت میں پہل کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اہم موضوع ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اسے پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی یا مشترکہ کمیٹی کو بھیجا جائے۔کانگریس کے جیوتی سندھیا نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ دوسروں کو اپنایا ہے۔اس بل میں شہریت اہلیت اور وقت سے متعلق موضوعات کا ذکر کیا گیا ہے، اس میں کچھ خامیاں ہیں۔اسے پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی یا مشترکہ کمیٹی کے سامنے غور کے لیے بھیجا جائے۔سی پی ایم کے محمد سلیم نے کہا کہ بنگلہ دیش سے دراندازی اور آسام کے مسئلے کو دیکھتے ہوئے اس بل پر غور کئے جانے کی ضرورت ہے، اس لیے اسے مشترکہ کمیٹی کو بھیجا جائے۔ترنمول کانگریس کے سدیپ بندوپادھیائے نے کہا کہ یہ ضروری بل ہے اور اسے مشترکہ کمیٹی کو بھیجا جائے۔شہریت ایکٹ 1955میں اور ترمیم کرنے والے شہریت ترمیمی بل 2016میں پڑوسی ملک سے آئے ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتوں کو شہریت فراہم کرنے کی بات کہی گئی ہے چاہے ان کے پاس ضروری دستاویزات ہو یا نہیں۔بل کی وجوہات اور مقاصد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے کئی ہندوستانی نژاد لوگوں نے شہریت کے لیے درخواست دی ہے لیکن ان کے پاس ہندوستانی نژاد ہونے کے ثبوت نہیں ہے۔پہلے ان کا شہریت قانون کے تحت فطری شہریت کے لیے 12سال تک ملک میں رہنا ضروری ہوتا تھا۔مجوزہ بل کے ذریعے شہریت ایکٹ کے شیڈول 3میں ترمیم کی تجویز کی گئی تاکہ وہ 12سال کے بجائے 7سال مکمل کرنے پر شہریت کے اہل ہو سکیں۔